ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے

ہم ہیں اور شغل عشق بازی ہے

کیا حقیقی ہے کیا مجازی ہے

دختر رز نکل کے مینا سے

کرتی کیا کیا زباں درازی ہے

خط کو کیا دیکھتے ہو آئنے میں

حسن کی یہ ادا طرازی ہے

ہندوئے چشم طاق ابرو میں

کیا بنا آن کر نمازی ہے

نذر دیں نفس کش کو دنیا دار

واہ کیا تیری بے نیازی ہے

بت طناز ہم سے ہو ناساز

کارسازوں کی کارسازی ہے

سچ کہا ہے کسی نے یہ اے ذوقؔ

مال موذی نصیب غازی ہے

It's only fair to share...Email this to someoneBuffer this pageDigg thisShare on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedInShare on RedditPin on Pinterest

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں