ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہے

ہم ان سے اگر مل بیٹھے ہیں کیا دوش ہمارا ہوتا ہے

کچھ اپنی جسارت ہوتی ہے کچھ ان کا اشارا ہوتا ہے

کٹنے لگیں راتیں آنکھوں میں دیکھا نہیں پلکوں پر اکثر

یا شام غریباں کا جگنو یا صبح کا تارا ہوتا ہے

ہم دل کو لیے ہر دیس پھرے اس جنس کے گاہک مل نہ سکے

اے بنجارو ہم لوگ چلے ہم کو تو خسارا ہوتا ہے

دفتر سے اٹھے کیفے میں گئے کچھ شعر کہے کچھ کافی پی

پوچھو جو معاش کا انشاؔ جی یوں اپنا گزارا ہوتا ہے

It's only fair to share...Email this to someoneBuffer this pageDigg thisShare on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedInShare on RedditPin on Pinterest

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں