کشمیریوں کو پناہ دینے والی ہندو صحافی مشکل کا شکار

پلوامہ حملے کے بعد کشمیری نوجوانوں کو پناہ دینے والی ہندو صحافی کی اپنی جان پر بن گئی، انہیں سوشل میڈیا پر بھی بدتمیزی اور بدزبانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔

26 سالہ ساگریکا کسو صحافی ہیں جن کا تعلق جموں کے پنڈت گھرانے سے ہے۔
پلوامہ میں ہوئے حملے کے بعد جب اتر اکھنڈ، راجستھان اور ہریانہ میں انتہا پسندوں کے حملوں سے بچنے کے لیے کشمیری مسلمان نئی دہلی پہنچنا شروع ہوئے تو ساگریکا نے ان کی بھرپور مدد کی تھی۔

انہوں نے 18 طالب علموں کی رہائش اور ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام کیا، جبکہ کشمیریوں کی مدد کرنے پر خاتون صحافی ساگریکا کو بے ہودہ جملے اور تنقید سہنا پڑی۔

خلاف توقع ایک ہندو خاتون کے مدد کرنے پر کشمیریوں نے ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

It's only fair to share...Email this to someoneBuffer this pageDigg thisShare on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedInShare on RedditPin on Pinterest

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں