سنّ ہجری کا اجرا

تاریخوں کو جس کتاب یا کاغذوں میں تحریری طور پر جمع کیا جاتا ہے، اسے تقویم ،جنتری یا کلینڈر کہتے ہیں ،اور ہر قوم کا کوئی نہ کوئی کلینڈر رہا ہے۔

یہودیوں کا سن’’ 3700ق م ‘‘سے شروع ہوتا ہے ،عسوی سن کی ابتداء حضرت عیسی ؑ کے یوم ولادت سے ہوتی ہے،اور بکرمی سن کی ابتداء مہاراجہ بکرماجیت کو ساکھا قوم پر فتح حاصل ہونے کے واقعے سے ہوتی ہے، تو اسی طرح مسلمانوں کے سن کی ابتداء نبی آخرالزمان،رحمت اللعالمین،امام الانبیاء،حضرت محمد ﷺ کے سفر ہجرت کے واقعے سے ہوتی ہے،اسی وجہ سے اسے سنّ ہجری کانام دیا جاتا ہے۔

ہجری سال کے بارہ مہینوں کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں۔(1)محرم الحرام (2)صفرالمظفر(3)ربیع الاوّل (4)ربیع الثّانی (5) جمادی الاوّل (6) جمادی الثّانی (7)رجب المرجب (8)شعبان المعظم (9)رمضان المبارک (10)شوال المکرم (11)ذی الحجہ (12) ذی القعدہ۔ان بارہ مہینوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان کا وجودآسمان وزمین کی تخلیق کے دن سے قائم ہے اور لوح محفوظ میں تحریر ہے جسکی شہادت خود کلام الہی سے ہورہی ہے جیسا کہ ارشاد ہے ( ’’انّ عدّۃ الشُّھُورِ……..السّموت والارض‘‘)
(سورۃ .توبہ،آیت36) (’’بلا شبہ اﷲ(تعالی)کے نزدیک مہینوں کی تعداد اﷲ کی کتاب (لوح محفوظ) میں اس دن سے جس دن انہوں نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا بارہ(12)ہی ہیں)

سنّ ہجری کی ابتدا

سنّ ہجری کا اجرا خلیفہ دوم،امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ کے سنہرے دور خلافت میں ہوا۔زمانہ جاہلیت میں عام واقعات کے یاد رکھنے کے لیے بعض واقعات سے سن کا حساب کرتے تھے،مثلا ایک زمانے تک کعب بن لوی کی وفات سے سال شمار ہوتا تھا، پھر عام الفیل قائم ہوا(یعنی جس سال ابرہتہ الاشرم نے کعبہ پر حملہ کیا تھا)پھر عام الفجاراور اسکے بعد کئی کئی مختلف سن قائم ہوئے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے زمانہ خلافت میں ایک مستقل سن قائم کیا ،جوآج تک جاری ہے،اس کی ابتدا سن16ھ ؁ میں ہوئی۔حضرت عمرؓ کے سامنے ایک چک پیش ہوئی جس پر صرف شعبان کا لفظ لکھا ہوا تھا ،آپؓنے فرمایا یہ کیسے معلوم ہوگاکہ گزشتہ شعبان کا ماہ مراد ہے یا موجودہ شعبان کا تواسی وقت مجلس شوری منعقد کی گئی،جسمیں بڑے بڑے صحابہ کرامؓجمع ہوئے اور یہ مسئلہ پیش کیا گیا،توبعض صحابہ کرامؓ نے یہ مشورہ دیا کہ تاریخ کی ابتداء حضور ﷺ کی ولادت با سعادت سے ہونی چاہیے، حضرت عمرؓ نے اس رائے کوناپسند کیا کیونکہ اسمیں عسائیوں کے ساتھ مشابہت ہے، اور بعض نے آپ ﷺ کی وفات سے تاریخ کی ابتداء کا مشورہ دیا،طویل غوروفکر کے بعد تمام صحابہ کرامؓکا ہجرت سے تاریخ کی ابتداء کرنے پر اتفاق ہوا۔ حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے اس رائے کو پسند فرمایا کیونکہ ہجرت ہی سے حق وباطل کے درمیان فرق واضح ہوا تھا، تاریخ کی ابتداء پر اتفاق کے بعدسال کی ابتداء کس ماہ سے کی جاے اس پر رائے لی گئی، تو دیگر صحابہ کرامؓ کے ساتھ ساتھ حضرت عثمان غنی اورحضرت علی المرتضی ضی اﷲ تعالی عنہمانے بھی یہی رائے دی ،کہ سنّ ہجری کی ابتداء محرم الحرام سے ہونی چاہی ہے ،حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے فرمایا..! محرم الحرام ہی مناسب ہے، کیونکہ لوگ حج سے محرم ہی میں واپس ہوتے ہیں۔
قیاس کا تقاضہ تویہ تھا کہ سنّ ہجری کی ابتداء ربیع الاول سے ہوتی، کیونکہ حضور ﷺنے اسی ماہ مدینہ منوّرہ کی طرف ہجرت فرمائی تھی،ربیع الاول کے بجاے محرم الحرام سے ابتداء اس لئے کی گئی کہ آپ ﷺہجرت کا ارادہ محرم ہی سے فرماچکے تھے،تواس طرح امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اﷲ تعالی عنہ نے سنّ ہجری کا آغاز حضور ﷺکی ہجرت سے اور سال کاپہلا مہینہ محرم الحرام کا انتخاب فرمایا اور اسی کو برقرار رکھا گیا۔
اور قیامت تک اسی کے مطابق تاریخ محفوظ ہوتی رہے گئی (انشا ء اﷲ)

اسلامی کیلنڈر اور دور حاضر کا المیہ

دور حاضر میں دفاتر ،گھروں،دوکانوں،ہر طرح کے اداروں ،معاشی میدانوں وغیرہ میں عسوی کیلنڈرکے استعمال کا غلبہ ہے۔یہ ایک قابل غور وفکر المیہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان عملی طور پر اسلامی وہجری کیلنڈر غیر محفوظ ہوتا جارہاہے ،جبکہ اسکی حفاظت فقہائے کرام کے نزدیک فرض کفایہ کا درجہ رکھتی ہے،پرنٹ مڈیا کا احسان ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر اسلامی وہجری تاریخی شائع کررہا ہے ۔مسلمانوں کو چاہی ہے کہ وہ آپنی تاریخوں کوہرجگہ اجاگر کرئے ،ورنہ فرض کفایہ کے تر ک کرنے پر گنہگارہونگے اور بروز محشر جواب دے ہونگے۔اﷲتعالی صحیح طور پر ہمیں دین سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے اور اسکی اشاعت کی توفیق عطاء فرمائے(آمین)

چارہ گر خود ہی لا تعلق ہیں……….درد حالانکہ لا دوا بھی نہیں

تحریر: جنید رضا،کراچی

It's only fair to share...Email this to someoneBuffer this pageDigg thisShare on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedInShare on RedditPin on Pinterest

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں