برطانوی فوج کےلیے دنیا کے سب سے چھوٹے جاسوس ڈرون تیار

لندن: برطانیہ کے محکمہ دفاع نے جاسوسی کے لیے دنیا کے سب سے چھوٹے ڈرون تیار کیے ہیں جو میدانِ جنگ میں فوج کے لیے جاسوسی کریں گے۔

وزارتِ دفاع نے اس مقصد کےلیے 8 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم رکھی ہے جس کے تحت کم سے کم 200 ڈرون بنائے جائیں گے۔ ان میں سرِ فہرست انسانی ہاتھ سے چھوٹے ’بلیک ہورنیٹ تھری‘ جاسوس ڈرون ہیں جنہیں دنیا کے سب سے چھوٹے ڈرون قراردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سامان پہنچانے والے خودکار ڈرون بھی بنائے جائیں گے۔

بلیک ہورنیٹ تھری نینو ڈرون برطانوی افواج کے لیے تیار کیا گیا ہے جو براہِ راست ایچ ڈی ویڈیو اسمارٹ فون پر نشر کرتا ہے۔ فوٹو: وزارتِ دفاع برطانیہ

ہورنیٹ کا وزن 200 گرام سے بھی کم ہے جو ایک وسیع علاقے کی ایچ ڈی ویڈیو بناکر براہِ راست سپاہی کے اسمارٹ فون پر نشرکرسکتا ہے۔

برطانوی سیکریٹری دفاع گیوون ولیم سن نے کہا کہ جاسوس ڈرون آسمانی آنکھ کا کام کرے گا اور اس سے اوجھل دشمنوں کا پتا لگایا جاسکے گا۔ جاسوس طیارے ہر فوجی کو جنگ کا ایک خاص زاویہ فراہم کریں گے۔ برطانیہ اگلے مرحلے میں مزید تین کروڑ ڈالر خرچ کرکے افواج کو کمک پہنچانے والی خود کار زمینی اور ہوائی سواریاں بھی بنائے گا۔

برطانیہ کے مطابق خطرناک اور دشوار گزار علاقوں میں جدید اور چھوٹے جاسوس ڈرون اہم کردار ادا کرتے ہوئے افواج کی رہنمائی کرسکتے ہیں۔ برطانوی تجزیہ کاروں کے مطابق انہیں بھرپور مواقع پر آزمایا گیا ہے۔ ولیم سن کے مطابق برطانیہ ، ایسٹونیا اور عراق میں بلیک ہورنیٹ نینو ڈرون کو حقیقی جنگ میں آزمایا گیا ہے۔

It's only fair to share...Email this to someoneBuffer this pageDigg thisShare on FacebookShare on Google+Tweet about this on TwitterShare on LinkedInShare on RedditPin on Pinterest

Comments

comments

اپنا تبصرہ بھیجیں